حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمعِ علماء و خطباء حیدرآباد کے اراکینِ مقننہ کا ایک اہم اجلاس شبستانِ قائم (عج)، نور خان بازار، حیدرآباد میں منعقد ہوا، جس میں خلع و طلاق سے متعلق مسائل کے حل، ازدواجی رشتوں کے تحفظ اور خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے دو کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔
مجمعِ علماء و خطباء حیدرآباد کی جانب سے قائم کی جانے والی کمیٹیوں میں مصالحتی و مشاورتی کمیٹی اور فیصلہ ساز کمیٹی شامل ہیں۔ ان کمیٹیوں کا مقصد خلع و طلاق کے معاملات میں شرعی رہنمائی فراہم کرنا، میاں بیوی کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوشش کرنا اور ضرورت پڑنے پر شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔
مصالحتی و مشاورتی کمیٹی کی ذمہ داریاں
مصالحتی و مشاورتی کمیٹی خلع یا طلاق کے مسائل سے دوچار میاں بیوی کی بات سنے گی اور دونوں کے مؤقف کو سمجھنے کے بعد شرعی رہنمائی کے ذریعے ان کے درمیان اختلافات دور کرنے اور صلح و مفاہمت کی کوشش کرے گی۔ اس کمیٹی کی اولین ترجیح ازدواجی رشتے کو برقرار رکھنا، غلط فہمیوں کو دور کرنا اور خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچانا ہوگی۔
اگر تمام ممکنہ کوششوں کے باوجود فریقین کے درمیان صلح نہ ہو سکے تو معاملہ فیصلہ ساز کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔
فیصلہ ساز کمیٹی کی ذمہ داریاں
فیصلہ ساز کمیٹی دونوں فریقین کے مؤقف، حالات اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لے گی اور شرعی اصولوں کی روشنی میں مناسب فیصلہ کرے گی۔ جہاں شرعی طور پر ضروری اور جائز ہو، وہاں خلع کے عمل کو آگے بڑھانے کی اجازت دینے اور متعلقہ شرعی کارروائی کے سلسلے میں رہنمائی فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کمیٹی کی ہوگی۔
یہ تمام امور مجمعِ علماء و خطباء حیدرآباد کے سرپرستِ اعلیٰ حجۃ الاسلام مولانا علی حیدر فرشتہ کی زیرِ نگرانی انجام دیے جائیں گے۔
فیصلہ ساز کمیٹی کے اراکین
فیصلہ ساز کمیٹی میں درج ذیل علماء شامل ہیں:
۱۔ حجۃ الاسلام مولانا سید ظفریاب حیدر رضوی
۲۔ حجۃ الاسلام مولانا سید حنان رضوی
۳۔ حجۃ الاسلام مولانا میر جواد علی عابدی
۴۔ ذاکرِ اہلِ بیتؑ مولانا مرزا جعفر حسین خلجی (شیعہ گورنمنٹ قاضی)
مصالحتی و مشاورتی کمیٹی کے اراکین
اس کمیٹی میں درج ذیل علماء شامل ہیں:
۱۔ حجۃ الاسلام مولانا عمار حیدرآبادی
۲۔ ذاکرِ اہلِ بیتؑ مولانا سید اکبر مہدی جعفری
۳۔ ذاکرِ اہلِ بیتؑ مولانا سید اکبر رضوی
مجمعِ علماء و خطباء حیدرآباد کے مطابق، ان کمیٹیوں کے قیام کا مقصد شیعہ معاشرے میں خاندانی اختلافات کو کم کرنا، غیر ضروری علیحدگیوں کی روک تھام کرنا اور ازدواجی زندگی سے متعلق مسائل میں شرعی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
مجمع نے خلع و طلاق جیسے حساس معاملات میں جلد بازی سے گریز کرنے اور صبر و تحمل، باہمی افہام و تفہیم، صلح و مصالحت اور شرعی رہنمائی کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔










آپ کا تبصرہ